نئی دہلی،17؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) زرعی قوانین کے خلاف جاری تحریک کے درمیان معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت، پنجاب اور ہریانہ کی صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا ہےاور انہیں 24؍ گھنٹے کے اندر اندر جواب دینے کا حکم دیا ہے۔اس کے ساتھ ہی اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے خود ہی ایک کمیٹی تشکیل دے گی۔ عدالت عظمیٰ نے اس بات کا بھی اشارہ دیا ہے کہ اس کمیٹی میں کسانوں کی تنظیمیں ، حکومتیں اور دیگر متعلقہ لوگ شامل کئے جائیں گے تاکہ مسئلے کا حل نکل سکے۔
چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کی قیادت والی سپریم کورٹ کی سہ رکنی بنچ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور کسانوں کے درمیان جاری بات چیت سے مسئلہ کا حل نہیں نکل پائے گا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ مذاکرے میں حل نظر نہیں آ رہا ہے چنانچہ جب اس معاملے میں کمیٹی تشکیل دے دی جائے گی تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ جو پٹیشن داخل کی گئی ہے، اس کی بنیاد صرف فری مومنٹ کی ہے یعنی راستہ کھولنے کی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے لوگ پریشان ہو رہے ہیں ۔چیف جسٹس نے حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ ہمارے سامنے آپ کو چھوڑ کر وہ لوگ نہیں ہیں جنھوں نے راستہ روکا ہے ۔اس پر مہتا نے کہا کہ راستہ ہم نے نہیںروکا ہے ۔ حکومت کے اس جواب پر سپریم کورٹ نے کہا کہ راستہ تو آپ نے روکا، کسانوں کو دہلی آنے سے روکا ؟ سی جی آئی نے سوال کیا کہ کون کون سے کسان یونین ہیں ؟ اس پر تشار مہتا نے بتایا کہ حکومت بات چیت کر رہی ہے ۔ کسانوں سے کئی راونڈ کی بات چیت ہوئی ہے لیکن کسان قانون منسوخ کرنے کی ضد پر قائم ہیں۔وہ حکومت سے ہاں یا نہ میں جواب چاہتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ اگر کسان ’کلاز ٹو کلاز‘ بحث کریں تو مسئلہ حل ہو پائے گا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں دہلی کی ایک شہری رشبھ شرما کی جانب سے پہلی پٹیشن داخل کی گئی جس میں شکایت کی گئی ہے کہ دہلی کی سرحدوں کو بند کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو آنے جانے میں مشکل پیش آ رہی ہے ۔ پٹیشن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کسانوں کو سرحدوں سے ہٹایا جائے کیونکہ اس کی جہ سے کورونا کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔پٹیشن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ انتظامیہ کو فوری طور پر حکم دے کہ وہ راستوں کو صاف کرائے ۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسانوں کو مظاہرہ کرنا ہے تو وہ مظاہرے کے مقرر مقام پر جائیں اور سماجی فاصلہ قائم رکھتے ہوئے مظاہرہ کریں۔
اسی کے ساتھ سپریم کورٹ میں ایڈوکیٹ جی ایس منی کی جانب سے بھی ایک پٹیشن داخل کی گئی ہے کہ عدالت حکومت کو حکم جاری کرے کہ وہ کسانوں سے بات چیت کرے اور مسئلے کو جلد از جلد حل کرے۔پٹیشن میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ کسانوں کو بنیادی سہولیات مہیا کرائی جائیں کیونکہ وہ ٹھنڈ میں بیٹھے ہوئے ہیں اورکسانوں کے خلاف ہونے والی حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی بھی جانچ کی جانی چاہئے۔ پٹیشن میں مطالبہ کیاگیا ہے کہ یہ جانچ قومی کمیشن برائے حقوق انسانی سے کرائی جائے۔ ایڈوکیٹ دیپک کنسل کی جانب سے تیسری پٹیشن داخل کی گئی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت ، حکومت کو حکم دے کہ وہ کسانوں کو دہلی آنے کی اجازت دے ۔ انھیں جنتر منتر پر سماجی فاصلے کے ساتھ دھرنا دینے کی اجازت دی جائے۔ علاوہ ازیں حکومت اور کسانوں کے درمیان اب بھی جنگ جاری ہے ۔ حکومت قوانین واپس لینے کو تیار نہیں ہے جبکہ کسان زرعی قوانین کی واپسی سے کم پر راضی نہیں ہیں ۔